ابنا: مزید اطلاعات کے مطابق علامہ ثقلین نقوی جو کہ جامعہ الہدیٰ کی پرنسپل تھے۔ شہید کو کالعدم ملک دشمن جماعت سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں نے 19 فروری کو نشانہ بنایا تھا۔
دہشتگردوں نے جناب علامہ ثقلین نقوی کو دو گولیاں ماری تھی جو اُن کہ ایک ٹانگ میں اور دوسری سینے میں لگی تھی۔ البتہ 8 دن کے مسلسل علاج کے بعد علامہ ثقلین نقوی زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔
واضع رہے کہ علامہ ثقلین پر حملے کی نامزد ایف آئی آر کالعدم ملک دشمن جماعت سپاہ صحابہ/ لشکرجھنگوی کے دہشتگرد انس بن مالک ،اجوت ، ارشد مغل،مولوی منیر مولوی عبد الرزاق اور قاری طیب کے خلاف درج کی گئی تھی۔ مگر افسوس کے ساتھ ابھی تک ملک دشمن جماعت کے دہشتگرد آزاد ہے۔
علامہ شہید ثقلین نقوی کو حملے کے بعد بھاولپور وکٹوریہ ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔بہاوپور وکٹوریہ اسپتال میں موجود نمائدہ نے اطلاع دی ہے کہ میت کو بھاولپور سے علی پور کے لیے 9 بجے کے قریب احتجاج کرتے ہوئے روانہ کیا جائے گا۔جب کے شہید کی نماز جنازہ تین بجے علی پور میں ادا کی جاے گی.
........
/169